ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل مکہ مسجد کے بچوں نے پیش کیا خوبصورت مظاہرہ؛ جامع مسجد کے خطیب کا ولولہ انگیز خطاب

بھٹکل مکہ مسجد کے بچوں نے پیش کیا خوبصورت مظاہرہ؛ جامع مسجد کے خطیب کا ولولہ انگیز خطاب

Thu, 25 Jan 2018 00:57:26    S.O. News Service

بھٹکل 24/ جنوری (ایس او نیوز)  یہاں وینکٹاپور کے قریب مکہ مسجد کی تعمیر نو اور تزئین کے بعد مسجد کے  افتتاح کی مناسبت سے منعقدہ   شبینہ مکتب کے بچوں کے  پروگرام میں بچوں نے  بہترین پرفارمینس پیش کرتے ہوئے حاضرین سے خوب داد حاصل کی۔ بچوں نے  خوبصورت اور سُریلی آواز میں نعت شریف، تقاریر اور مکالموں کے ذریعے سامعین  کو خوب محظوظ کیا ۔

پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما بھٹکل جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے  اپنے ولولہ انگیز خطاب میں  بچوں کے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ  یہاں مکہ مسجد کے شبینہ مکتب کے بچوں نے جو پروگرام پیش کیا ہے، اُس کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی اور اپنی اولاد کی فکر کریں اور ہمارے اباو اجداد نے ہم تک اسلام کو جس طرح صحیح انداز، صحیح اسلوب اور صحیح طریقے کےساتھ پہنچایا ہے ہم بھی اپنی اگلی نسلوں تک صحیح حالت میں اسلام کو پہنچائیں اگر ہم نے اپنی  اور اپنی اولاد کی  فکر نہیں کی تو پھر یاد رکھیں کہ ہمیں اللہ کے ہاں جواب دینا پڑے گا۔  اگر ہماری اگلی نسلوں میں  ایمان باقی نہیں رہا اور اسلام باقی نہیں رہا، توہمیں تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ مولانا نے قران کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان اور اسلام باقی رکھنے کا  نسخہ بتایا ہے، اللہ فرماتا ہے کہ  اگر پیٹ کے اندر حلال اور پاکیزہ کمائی کا  رزق جائے گا  تو پھر ہمارے اعمال بھی اچھے بنیں گے اور ہمیں  اچھے اعمال کرنے کی بھی توفیق ملے گی۔

علاقہ کا نام" مکہ محلہ" رکھنے پر مولانا نے  علاقہ کے تمام لوگوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ مکہ نہایت بابرکت نام ہے اور مکہ کے دور میں ہی  اسلام کی تاریخ میں سب سے زیادہ قربانیاں مسلمانوں نے دی  ہیں۔ مولانا نے کہا کہ  مکہ کے اُس وقت کے مسلمانوں کا اللہ کے ہاں جو مقام اور مرتبہ ہے بعد میں ایمان لانے والے اُس کا اندازہ نہیں کرسکتے۔جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا ، بعد والے اُس مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔اور جتنے پہلے کے مسلمان ہیں اور اُن کا جتنا بڑا مقام ہے  اُس کا ہم تصور نہیں کرسکتے۔ مولانا نے مکہ کالونی کے لوگوں کو نصیحت کی کہ آپ کو چاہئے کہ مکہ کے اُس وقت کے مسلمانوں کو آپ اپنا ماڈل اور نمونہ بنائیں اور مکہ کے اُس وقت کے دور کی تاریخ پڑھیں، مزید کہا کہ  اُس وقت کے مسلمانوں کا جو ایما ن تھا اور اُن کی جو قربانیاں تھیں، اُس کو یاد رکھیں اور اُن کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔اگر ہم  اُن کے طرز کو اختیار کرتے ہیں تو ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں گے۔مولانا نے کہا کہ مکہ کے مسلمان اخلاق، کردار،  عمل صالح ، معاملات کی صفائی  ، سچائی، ایمانداری سب میں دوسروں سے آگے تھے، مولانا نے  مکہ کالونی کے مسلمانوں سے بھی  اُسی طرز زندگی کو اپنانے کی نصیحت کی۔

مولانا مظفر ندوی کی تلاوت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔شبینہ مکتب کے ضُحاد نے حمد پیش کی، جس کے بعد بچوں نے  تقاریر، نعت، اسلامی ترانے، نظمیں اور مکالمے پیش کئے۔ مسجد کے امام  مولانا اشرف ندوی  اور مولانا مظفر ندوی  نے باری باری نظامت کے فرائض انجام دئے۔ پروگرام میں  مسجد کے سابق موذن جناب محمد حسین صاحب  اور مسجد کے ذمہ دار  جناب رکن الدین محمد عمر صاحب کو  ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں  تہنیت پیش کر تے ہو ئے  شال پوشی کی گئی ۔مولانا ذکریا برماور ندوی نے پروگرام کی صدارت کی۔

دبئی کے بزنس مین جناب عتیق الرحمن مُنیری، جناب  ایم جے مولیٰ اور مولانا عبدالسمیع ندوی بھی  اسٹیج پر تشریف فرماتھے۔


Share: